سلام گُذار: سید اظہار بخاری
حوزہ نیوز ایجنسی!
یہ سلسلہ روز و شب کا ہم کو بتا رہا ہے وہ آ رہا ہے
ہزار پردوں میں رہ کے دنیا چلا رہا ہے وہ آ رہا ہے
ہے راج ِ ظُلمت قدم قدم پر، گلی گلی جَور سے بھری ہے
نظام ِ قِسط و عَدَل کا رستہ دِکھا رہا ہے وہ آ رہا ہے
بشر کی ریشہ دَوانیوں میں، مُحبتوں کی گرانیوں میں
دل ِ پریشاں و قلبِ مُضطَر بُلا رہا ہے وہ آ رہا ہے
ازل سے جس مُنتَظَر کی دنیا بَچَشم ِ نَم اِنتظار میں ہے
جو اپنے ہر مُنتَظِر کے دل کی صدا رہا ہے وہ آ رہا ہے
نظام ِ فاسد کی گندگی سے جہان ِ یزداں کو پاک کرکے
بساطِ اِنصاف و عَدل ہر سُو بچھا رہا ہے وہ آ رہا ہے
وجودِ ہستی و نِیستی کا ہے جس کے دم سے وجود قائم
جو قائم ِ بے مثال وجہ بقاء رہا ہے وہ آ رہا ہے
اِمام کا دِل دکھانے والو خوں کے آنسو رُلانے والو
جو چاہنے والے سے بَدعَمل سے خفا رہا ہے وہ آ رہا ہے
بزورِ طاقت بزورِ بازو دبا رہے ہو حسینیوں کو
یہ جانتے ہو کیا وقت بھی ایک سا رہا ہے؟ وہ آ رہا ہے
ہماری ماؤں نے اَلعَجَل کی صدا میں یہ ہی سبق دیا ہے
کہ غلبہ ظُلم و جَبر ہر دم بَھلا رہا ہے ؟ وہ آرہا ہے
تُو خُود کُشی کا جنون لے کر، سامانِ حَرب و فُنون لے کر
بندوق و بارود و بَم سے ہم کو دبا رہا ہے ؟ وہ آ رہا ہے
خدا کا نائب، امامِ عیسیٰ، وہ حاملِ ذوالفقارِ حیدر
ظہور و اظہار سے زمانے پہ چھا رہا ہے وہ آ رہا ہے
از قلم: سید اظہار بخاری









آپ کا تبصرہ